نئی دہلی،10؍فروری(ایس او نیوز؍ایجسنی) متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی جاری تحریک میں ایک بار پھر تیزی آنے کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔ 26 جنوری کو ٹریکٹر پریڈ کے دوران تشدد کا واقعہ پیش آنے کے بعد ایک وقت ایسا ضرور لگ رہا تھا کہ دہلی کی سرحد خالی ہو جائے گی اور کسان مظاہرین اپنے گھر واپس چلے جائیں گے، لیکن راکیش ٹکیت اور درشن پال جیسے کسان لیڈران عزم کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے رہے، اور اب ایک بار پھر اپنی تحریک کو تیز کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق تینوں زرعی قوانین کو رد کرانے کا مطالبہ دہراتے ہوئے سنیوکت کسان مورچہ نے اعلان کیا ہے کہ 18 فروری کو دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے تک ’ریل روکو مہم‘ چلائی جائے گی۔ اس سلسلے میں سنیوکت کسان مورچہ کی آج ایک انتہائی اہم میٹنگ ہوئی جس میں متفقہ طور پر فیصلہ لیا گیا کہ کسان تحریک کو مزید تیزی عطا کی جائے گی۔ اس فیصلے کے بعد مرکز کی مودی حکومت کے پریشانیاں بڑھتی ہوئی معلوم پڑ رہی ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سنیوکت کسان مورچہ کی میٹنگ میں 18 فروری کو ریل روکو مہم چلانے کے علاوہ بھی کچھ فیصلے لیے گئے ہیں جو انتہائی اہم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 18 فروری کو ریل روکو مہم چلانے سے قبل 12 فروری کو راجستھان کے سبھی روڈ پر موجود ٹول پلازہ کو ’ٹول فری‘ کروایا جائے گا۔ اس کے بعد 14 فروری کو پلوامہ حملہ میں شہید جوانوں کی قربانی کو یاد کیا جائے گا۔ اس کے لیے ملک بھر میں ’کینڈل مارچ‘ میں مشعل جلوس اور دیگر پروگرام کا انعقاد ہوگا۔ بعد ازاں 16 فروری کو کسان مسیحا سر چھوٹو رام کی پیدائش کے دن ملک بھر میں موجود کسان اتحاد کا مظاہرہ کریں گے۔ گویا کہ 12، 14، 16 اور 18 فروری کا پروگرام کسان لیڈروں کے ذریعہ فائنل کر دیا گیا ہے۔